بہتان اور افتراء
لمشاهدة الصورة بحجمها الأصلي اضغط هنا
لمشاهدة الصورة بحجمها الأصلي اضغط هنا
جودة الطباعة - ألوانجودة الطباعة - أسودملف نصّي
بہتان اور افتراء
سلسلة الأخلاق – الافتراء والبهتان
أخلاق مذمومة نفر منها الشرع ونهى عنها
الافتراء والبهتان
قال الله تعالى :
والذين يؤذون المؤمنين والمؤمنات بغير ما اكتسبوا فقد احتملوا بهتانا وإثما مبينا
( الأحزاب : 58 )
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
ومن قال في مؤمن ما ليس فيه أسكنه الله ردغة الخبال حتى يخرج مما قال .
رواه أبو داود وصححه الألباني
ترجمہ /
اخلاقیات پر سیریز –
وہ بُرے اخلاق جن سے شریعت نے نفرت دلائی ہے اور ان سے منع کیا ہے:-
بہتان اور افتراء /
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
“اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذا دیتے ہیں، تو یقیناً انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا۔”
(سورۃ الأحزاب: 58)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اور جو شخص کسی مومن کے بارے میں وہ بات کہے جو اس میں نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اسے ردغۃ الخبال میں ٹھہرائے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل آئے۔”
(سنن ابی داود، اور علامہ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔